2005 میں آرمی کی واپسی کے بعد تیراہ میں مسلح تنظیمیں بنائی گئی۔ کوکی خیل نے کسی بھی تنظیم کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ منگل باغ اور طالبان نے مشترکہ طور پر کوکی خیل پر خودکش حملے کئے، مشران کو قتل اور اغوا کیا، آمدورفت حتی کہ غذائی اجناس کی ترسیل بھی مشکل بنائی گئی۔ https://twitter.com/Tirahwal21/status/1387779614479630342
تیراہ کوکی خیل تورابورہ کے قریبی سرحدی علاقے ہے۔ طالبان اس علاقے کو سٹرٹیجک ڈیپتھ یعنی جہادی کیمپ بنانا چاہتے تھے۔ لیکن تیراہ کوکی خیل نے انکو ایسا کرنے نہیں دیا۔جون 2012 میں طالبان نے اس علاقے پر پوری قوت سے حملہ کیا۔ ہمارے لوگوں نے مزاحمت کی لیکن طالبان بہتر اسلحہ اور گھروں کو
ٹارگٹ اور جلانے کی سٹریٹجی کے باعث کامیاب ہوئے۔ مزاحمت کے دوران کوکی خیل قوم کی کئی شہادتیں ہوئیں جن میں ایک ہی دن طالبان کے ہاتھوں ظہور آفریدی، حضرت باز، اور اقبال اور اورانوش کاکا کی شہادت بھی شامل ہے۔
تیراہ میں بیک وقت لشکر اسلام، انصارالاسلام، نمدار گروپ، تحریک طالبان سر گرم عمل تھے۔ کوکی خیل ان گروپس کی سالوں مزاحمت میں تھک چکے تھے۔8 سال کے مزاحمت میں کوئی ریاستی تعاون تو دور کی بات الٹا 2010 میں پاکستان ائیر فورس نے غلطی سے کوکی خیل کے 65 بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔
مئی 2012 کے آخر میں طالبان نے کوکی خیل پر حملوں کا سلسلہ تیز کیا۔ تیراہ راجگال کے کوکی خیل جون کے اوائل تک تقریبان علاقہ بدر ہوچکے تھے اور اب باری تھی ابدال خیل کوکی خیل علاقے کی جن کے لوگ ابھی تک طالبان کے خلاف مورچہ زن تھے۔
طالبان نے خبر دی گئی تھی کہ یہ لوگ طالبان کے آگے جھکنے والے نہیں۔ طالبان پاکستان کے بدنام زمانہ کمانڈر عبدالوالی مہمند طالبان دہشتگردوں کی رہنمائی کر رہا تھا۔ طالبان مختلف چوٹیوں پر نمودار ہونا شروع ہوئے اور خوف پھیلانے کے لئے جو بھی گھر قبضہ میں آیا تو اسکو آگ لگانا شروع کیا۔
طالبان نے دور کے گھروں پر بھی فائرنگ شروع کی۔ اورانوش ابدال خیل ایک بزرگ شخص کو قتل کیا۔ ہر طرف گولیاں چلیں رہی تھی اور گھر جلائے جارہے تھے۔ صبح سویرے ہی طالبان نے مختلف اطراف سے حملہ کیا ہوا تھا۔
افغانستان بارڈر کے قریب سلیمی سر مرغو کنڈاو( 8000 فٹ بلند) پر پر ظہور، تکلیپ اور جمعہ گل ابدال خیل مورچہ زن تھے۔طالبان کے سنائپر دستے قریبی چوٹیوں پر براجمان ہو چکے تھے۔طالبان نے ظہور کو کوکی خیل کا سرخ جھنڈا اتارتے اور طالبان کا سفید جھنڈا لگانے کو کہا۔ظہور نے جواب میں طالبان کو
چھوڑنے کا کہا۔ طالبان دہشت گرد نے مارٹر فائر کیا۔ جس سے مورچے کی دیواریں گر گیئں۔ اس کے ساتھ طالبان کے سنائپر نے ظہور کو نشانہ بنایا اور گولی ظہور کے گردن میں لگی۔ ظہور نے ہمت نہ ہاری اور شدید زخمی ہونے کے باوجود قریبی دہشتگرد طالب کو گولی مار کر جہنم واصل ( مردار ) کر دیا۔
گردن میں گولی لگنے کے تقریبان 5 منٹ کے اندر ظہور کی شہادت ہوئی۔ دن کے بارہ بجے تھے اور ہر طرف طالبان کو پسپا کرنے کی مزاحمت جاتی تھی۔ تقریبان 5 بجے طالبان کے حملے کو پسپا کیا گیا۔ حضرت باز طالبان کا پیچھا کرتے کرتے شہید ہوگیا۔ اسی رات طالبان نے ایک دفعہ پھر حملہ کیا۔
طالبان تعداد میں زیادہ تھے اور گھروں کو مارٹر سے ٹارگٹ کر رہے تھے اور یوں ابدال خیل کوکی خیل کا علاقہ بھی طالبان کے قبضے میں اگیا۔ لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ گئے۔ مال مویشی اور بھرے گھر طالبان نے لوٹ لئے۔
#WeWillNeverForget
#WeRememberOurHeroes
"ظہور میرا ماموں زاد تھا میں نے ظہور کے لاش کو پہاڑوں سے اتارا۔ ہم نے شہدا کی عارضی قبریں کھودی تھی اور صرف کفن میں لپیٹ کر انکو دفنایا۔ واقعے کے چھے مہینے بعد ہمیں اطلاع ملی کہ ظہور کا قبر گر چکا ہے، میں نے منگل باغ اور طالبان کے لوگوں سے درخواست کی کہ ہمیں ظہور کے قبر کی مرمت
کی اجازت دی جائے۔ اجازت ملی اور مرمت کے دوران مجھے ظہور کی لاش دیکھنے کا دوبارہ موقع ملا۔ ظہور کی لاش بالکل تازہ پڑی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے ظہور کی داڑھی بڑھ چکی ہو اور گولی کا نشان بھی تازہ تھا جیسے ابھی ابھی اسکی شہادت ہوئی ہو "
میں پہلے ہی اپنے مشران سے ظہور اور باقی شہدا کے نام کو زندہ رکھنے کی درخواست کر چکا ہوں۔ امن کے خاطر شہید ہونے والے اپنے بھائیوں کو ہم نہیں بھولیں گے۔
#RehabilitateTirahIDPs
You can follow @Tirahwal21.
Tip: mention @twtextapp on a Twitter thread with the keyword “unroll” to get a link to it.

Latest Threads Unrolled: