1/ 5 محرم الحرام کی صبح عمرسعد (جس کے دل میں امام حسین علیہ السلام کی محبت تو تھی لیکن پھر بھی رے کی حکمرانی کے لالچ کو ترجیح دے کر ہمیشہ کے لیئے ملعون بن گیا) نے ایک خط ابن زیاد ملعون کو لکھا جسکی تحریر کچھ یوں تھی:
امابعد! حمد خدا و تعریف مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! امیر
امابعد! حمد خدا و تعریف مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! امیر
2/ کو معلوم ہو کہ اللّٰہ تعالی نے ہماری مراد پوری کر دی ہے جو آگ حجاز سے عراق تک شعلہ ور تھی جس سے گھر کے گھر جل جاتے اللّٰہ تعالی نے اسے بجھا دیا ہے۔
امرِ خلافت کی خدا نے اصلاح کر دی ہے۔
فتنہ کی آگ ٹھنڈی ہو گٸی ہے۔
تجاوز کرنیوالے ہاتھ پیچھے ہٹ گٸے۔
امام حسین علیہ السلام نے
امرِ خلافت کی خدا نے اصلاح کر دی ہے۔
فتنہ کی آگ ٹھنڈی ہو گٸی ہے۔
تجاوز کرنیوالے ہاتھ پیچھے ہٹ گٸے۔
امام حسین علیہ السلام نے
3/ میرے ساتھ عہد کیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف باتیں نہیں کرینگے۔
جہاں سے آٸے ہیں وہاں لوٹ جانے کو تیار ہیں۔
عام مسلمان کیطرح زندگی گزاریں گے کسی سے اپنی بیعت نہ لیں گے۔
البتہ خود یزید ملعون کی بیعت کیلٸے تیار ہیں۔ (یہ الفاظ عمر سعد ملعون نے اپنی طرف سے لکھے تھے)۔
آخر اس نے خط
جہاں سے آٸے ہیں وہاں لوٹ جانے کو تیار ہیں۔
عام مسلمان کیطرح زندگی گزاریں گے کسی سے اپنی بیعت نہ لیں گے۔
البتہ خود یزید ملعون کی بیعت کیلٸے تیار ہیں۔ (یہ الفاظ عمر سعد ملعون نے اپنی طرف سے لکھے تھے)۔
آخر اس نے خط