تھریڈ 🏌️‍♂️

“موت کا رقص”

ناروے ، کینیڈا ، جرمنی ، فرانس ،امریکہ اور دنیا کے بے شمار ممالک تہذیب اور شائستگی کے لحاظ سے کسی جنت سے کم نہیں ہیں۔ اسلامی ممالک میں بھی ایران، ترکی ، ملائیشیا، سعودی عرب، اور کئی مسلم ریاستیں مثالی ہیں۔ متحدہ عرب امارات ان میں سرفہرست ہے۔
جو ممالک خود کو ترقی پذیر کہتے ہیں وہاں بھی عوامی حقوق کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور قوموں کی تربیت اُن کے لیڈر کرتے ہیں۔

ہماری حکومت کی سنجیدگی، کا اندازہ حریم شاہ کی ٹک ٹاک سے لیکر مہوش حیات کے تمغۂ امتیاز تک پھیلی ہوئی ہے۔ ن لیگ اخلاقی اور کرداری طور پر مضبوط تھی۔
نواز شریف نے ایک وقار، تہذیب اور شرافت کا معیار قائم رکھا ہوا تھا۔ سنجیدگی، متانت اور حمیت اُن کا طُرہّ امتیاز رہا ہے۔ میاں نواز شریف کی شخصیت میں ہمیشہ لحاظ، مروت ، اخلاق اور تہذیب نمایاں عنصر رہا ہے۔ بیگم کلثوم نواز توخیر علم ، شرافت ، نجابت اور اخلاق کا مجسمہ تھیں۔
لیکن موجودہ حکومت سے عوام جہاں مہنگائی، ٹیکس اور بدامنی سے نالاں ہے وہاں عوام میں اخلاقیات کے حوالے سے بھی تشویش کی شدید لہر پائی جاتی ہے۔ ایک سال کی مدت میں جتنے ٹرین حادثات ہوئے ہیں اور جتنی اموات ہوئیں، جتنے خاندان اُجڑے۔
پاکستان کی تاریخ میں اُن کی مثال ملنی مشکل ہے۔ جب کسی وزیر کی توجہ اپنے سے زیادہ دوسروں کے کاموں پر ہو تو یہی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ روڈ ایکسیڈنٹ بھی ایک سال میں جتنے زیادہ ہوئے ہیں۔ اس نے پاکستان میں معذوروں، اپاہجوں اور بیماروں کی تعداد میں دوگنا زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔
پورے پاکستان میں 20 فیصد آبادی روڈ ایکسیڈنٹ سے دوچار ہے۔ ایکسیڈنٹ کی صورت میں چھ لاکھ افراد کے ہاتھ پاؤں یا دیگر اعضاء ٹوٹ جاتے ہیں اور بُری طرح ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ اندازہ کیجئے کہ دس سال میں یہ تعداد کتنی ہو گی۔
حکومت قائم کرنے کا مقصد عوام کی زندگیوں کو آسان اور پُرسکون بنانا ہوتا ہے۔ عوام سارا سال ہر چیز پر ٹیکس ادا کرتی ہے اور ہمارے ہاں تو فقیر، خواجہ سرا، یتیم، بیوائیں تک مختلف مدوں میں ٹیکسوں کی ادائیگی کر رہے ہیں۔ حکومت عوامی بہبود کے حوالے سے وجود میں آتی ہیں
اور ٹیکسوں سے وصول شدہ کھربوں روپے کی آمدن سے فلاحی منصوبے اور ترقیاتی کام کئے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ عوام سے ریونیو کی مد میں کھربوں روپے کی وصولیوں، آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر وصول کرنے، عرب چین متحدہ عرب امارات
اور دیگر ممالک سے امدادی رقوم لینے، نیب کے جمع کرائے ہوئے اربوں روپوں اور واگزار کرائی ہوئی جائیدادوں سے حاصل کردہ اربوں روپے سے حکومت آخر کیا کرتی ہے۔ یہ سارا روپیہ جس سے پاکستان صرف ایک سال میں ترقی اور کامیابی کی جست لگا سکتا ہے۔
یہ سارا روپیہ کہاں جا رہا ہے جبکہ پاکستان کا بچہ بچہ 2018ء سے ہر معمولی سی معمولی چیز پر ٹیکس دے رہا ہے۔ کوئی بچہ ٹافی چاکلیٹ چپس لیتا ہے یا کوئی کاپی کتاب پینل یا پھر کوئی کھلونا ہرچیز پر ٹیکس ادا کر کے وہ چیز اُسے ملتی ہے۔
دو سال سے زائد ہو گیا لیکن کوئی فلاحی رفاہی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔

اگر کاغذی طور پر آیا ہے تو سال گزرنے کے باوجود اُس پر دس فیصد بھی کام نہیں ہوا۔ انتظامیہ کا کام ملکی صورتحال اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو کنٹرول کرنا ہے
لیکن جہالتوں کا یہ حال ہے کہ آج تک انتظامیہ ٹریفک کنٹرول نہیں کر سکی ہے۔ عوام میں ٹریفک کا شعور پیدا نہیں کر سکی ہے جس کے نتیجے میں روز ہولناک حادثے جنم لیتے ہیں۔ ٹریفک پولیس اس بات کے پیچھے تو پنجے جھاڑ کر پڑ گئی کہ ہیلمٹ پہنیں لیکن ٹریفک پولیس نے یہ
نہیں بتایا کہ موٹر سائیکلوں کو انتہائی لیفٹ چلنا چاہئے۔ موٹر سائیکلوں کو سڑک کے درمیان میں یا سڑک کے دائیں جانب چلنا خلاف قانون ہے اور حادثے کی بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹ کی صرف اور صرف تین بڑی وجوہات ہیں۔ ایک موٹر سائیکل والوں کی وجہ سے ہمیشہ حادثہ ہوتا ہے۔
دوسرے تیز رفتاری سے اور تیسرے سپیڈ بریکرز سے۔ اول تو سپیڈ بریکرز جس کی بھی ایجاد ہیں، وہ کوئی نہایت ہی شیطانی دماغ کا آدمی ہو گا۔ سپیڈ بریکرز نے پورے پاکستان کو اعصابی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ سپیڈ بریکر بنانے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس سے سپیڈ کنٹرول کرتے ہیں۔
یہ سپیڈ بریکرز اس قدر بے ڈھنگے، اونچے اور خطرناک بنائے گئے ہیں کہ محض ان کی وجہ سے بھی سینکڑوں حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ہر سڑک، چوراہے گلی نکڑ پر سپیڈ بریکرز نے زندگی کو خطروں میں گھیر دیا ہے۔ اب تو اتنی سڑکیں نہیں جتنے سپیڈ بریکرز ہیں جو موت کا رقص کراتے ، خون میں نہلاتے ہیں۔
جہالت کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ سڑکوں پر بڑے بڑے ڈسٹ بِن رکھے ہیں جہاں بدبو کے غلیظ جھونکوں کے ساتھ اکثر حادثات ہوتے ہیں۔ کیا انتظامیہ کے پاس اتنا بھی دماغ نہیں کہ یہ ڈسٹ بِن سڑکوں سے اٹھا کر کسی ایک جگہ رکھیں۔ پورا لاہور ڈسٹ بن اور سپیڈ بریکروں کی زد میں ہے۔
اور اب حال یہ ہے جہاز بھی حادثوں سے محفوظ نہیں ہے۔ اداروں کو پتہ ہوتا ہے کون کون سی فنی خرابی ہے مگر پھر بھی انسانی جانوں سے کھیلنے سے باز نہیں آتے۔ پائلیٹ کال کرتے رہتے ہیں اور ادارے سارا ملبہ ان پر ہی ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ آج کے حادثے کو ہی سامنے رکھ لیں۔
کتنی انسانی جانوں کا نقصان ہو گیا اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

اللّہ پاک تمام انسانوں کو حادثوں سے محفوظ رکھے اور حکمرانوں کو توفیق دے جہاں اپنا پیٹ بھر رہے ہیں وہیں عوام کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی عملی اقدام کر لیں۔

جزاک اللّہ خیراً

کنگ میکر
You can follow @restiswell.
Tip: mention @twtextapp on a Twitter thread with the keyword “unroll” to get a link to it.

Latest Threads Unrolled: