جب WHO کے گلوبل ڈائیرکٹر کے لیے نام شارٹ لسٹ کئے جا رہے تھے تو 4ناموں میں سے ایک نام پاکستان میں سے بھی تھا۔ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر مگر خدمتِ خلق کا جذبہ دیدنی تھا ۔ اتنی بڑی پوسٹ کو چھوڑ کر پاکستان آنے کو ترجیح دی اور اپنے ملک کی خدمت کا فیصلہ کیا۔ پاکستان میں آئی تو <جاری>
یہاں ملاقات عمران خان سے ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان بھی ان کی شخصیت اور جذبہ جب الوطنی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور ان کو حکومت میں اہم ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان بھی تو ٹیم بنانا جانتا تھا اورٹیلنٹ کو پہلی نظر میں پہچاننے میں عمران خان کا کوئی ثانی نہیں تھا <جاری>
تبھی وزیراعظم نے ان کو اربوں روپے کے پروجیکٹ کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا . یہ ایک ایسا حساس پروجیکٹ تھا جس میں پاکستان کی نیک نامی بھی ہو سکتی اور بدنامی بھی۔ کیوں کہ اس پروجیکٹ کو فنڈنگ صرف پاکستان نہیں پوری دنیا سے ہونی تھی۔
اور ایسے میں شفافیت کا خیال رکھنا بھی <جاری>
اور ایسے میں شفافیت کا خیال رکھنا بھی <جاری>
ضروری تھا۔ ماضی میں ایسے پراجیکٹ کو صرف سیاسی مفادادت کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ جس سے نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ پاکستان کے باہر بھی شرمندگی کا سامنا رہا۔ اس بار اس پرجیکٹ کو شفاف اور سیاست سے دور رکھنا بھی ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ خیر وقت آ گیا پراجیکٹ بھی لانچ <جاری>
کر دیا گیا۔اور اسی شخصیت کو چئرپرسن بھی بنا دیا گیا۔ اور یوں پاکستان میں ایک سنہری دور کا آغاز ہوا۔ یہ پراجیکٹ غریبوں سے لے کر بزرگوں تک، بیمار سے لے کر طالب علموں تک سب تک پھیل گیا۔ ہر مستحق بغیر کسی رنگ نسل اور سیاسی وابستگی کے اس سے مستفید ہونے لگا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا <جاری>
تو بالستان میں کرونا وائرس نے ڈیرے ڈال لیے۔ کروڑوں پاکستانی بے روزگار ہو چکے تھے ۔ایسے میں ہر شخص اسی پراجیکٹ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اور امیدوں کے عین مطابق یہی پراجیکٹ ایک بار پھر غریبوں کا سہارا بنا اور ایسے مشکل وقت میں ہر بےروزگار کو گھر چلانے کے لیے 12000 روپے <جاری>
دینے کا فیصلہ ہوا۔ شفافیت کو پقینی بنانا ایک چیلنج تھا۔ ایسے میں ایک شخصینت برقع پہن روپ بدل کر دکانوں پر چھاپے مار کر اس کام کی خود گراونڈ پر نگرانی کر رہی تھی۔ اور یہ وہی خاتوں تھی جس کو خان نے اس کام کے لیے چنا تھا۔
خاتوں کا نام ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور پراجیکٹ کا نام احساس تھا۔
خاتوں کا نام ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور پراجیکٹ کا نام احساس تھا۔